فرانسیسی مصور کی پینٹنگ ریکارڈ 30 کروڑ ڈالر میں فروخت
فرانسیسی مصور گوگاں کی دو تاہیشن لڑکیوں کی بنائی ہو پینٹنگ 3 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی ہے جو اسے اب تک فروخت کی جانے والا سب سے مہنگا فن پارہ بنا دیتی ہے۔ اس پینٹنگ کا نام ہے ’کب شادی کرو گی؟‘ اور اسے 1892 میں بنایا گیا تھا اور اب تک یہ ایک سوئس کولیکٹر کے پاس تھی۔ غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق یہ فن پارہ قطر کے ایک میوزیم نے خریدا ہے۔ اس سے قبل قطر ہی نے کسی فن پارے کے لیے سب سے زیادہ رقم 2 کروڑ 59 لاکھ ادا کی تھی اور یہ بھی ایک فرانسیسی مصور پال سیزان کی بنائی ہوئی تھی۔ اس فن پارے کی فروخت سے قبل گوگاں کا یہ فن پارہ سوئزرلینڈ کے شہر بیزل کے رہنے والے ایک کولیکٹر روڈولف سٹیشلن کی ملکیت تھی۔ دہائیوں سے یہ بیزل کے ایک میوزیم کونٹس میوزیم کو دیا گیا تھا مگر پھر امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق سٹیشلن نے میوزیم کے ساتھ اختلافات کے بعد اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسٹر سٹیشلن نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ خریدنے والے کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے۔ یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہے یہ فروخت کس جگہ ہوئی تاہم نیو یارک ٹائمز جس نے اس فروخت کے بارے میں رپورٹ کی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اسے قطری خریدار کو فروخت کی ہے مگر قطری حکام نے اس خریداری کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ قطر کے شاہی خاندان نے گذشتہ چند سالوں میں کثیر رقم خرچ کر کے مغربی فن پارے خریدے ہیں۔ گذشتہ سال وفات پانے والے قطر کے سابق وزیرِ ثقافت شیخ سعود بن محمد الثانی نے ملک کے خزانے سے ایک ارب ڈالر کی مالیت کے فن پارے خریدے ہیں۔ قطر نے 2012 میں ڈیمئین ہرسٹ کے ’ریٹروسپیکٹیو‘ کو برطانیہ میں نمائش کے لیے پیس کیا جو بعد میں قطر کے دارلحکومت دوحہ منتقل ہو گیا اور اس کے علاقہ قطر نے کثیر رقم اپنے اسلامی اور عرب فنون کے میوزیم کو بنانے پر خرچ کی ہے۔
- Tahysn gugan two girls are made of French artist painting was sold for $ 3 million it sold the most expensive piece of art is made. This painting is called 'How to Marry? "And it was built in 1892 and until now he had a Swiss kulyktr. According to unverified reports have purchased a museum of art in diameter. The diameter is only a work of art for the most money paid 2 million to 59 million, and it was made by a French artist Paul syzan. Gugan prior to the sale of this art, art living a kulyktr Bezel Swiss town was owned by Rudolf stysln. Basil kunts decades, the museum was a museum but the reports in the US media stysln after disagreements with the museum decided to sell it. Mr. stysln told the New York Times that he would not reveal the identity of buyers. It is still unclear how the sale, but a New York Times report about the sale of the media, referring to the Qatari it is sold to the buyer purchasing the Qatari authorities have not confirmed yet . Qatari royal family, spending money in the last few years in western art purchased. Who died last year, Sheikh Saud bin Mohammad Al-Thani, Qatar's Minister of Culture of the country's art treasures bought a billion dollars. Qatar in 2012 dymyyn Hurst's 'Retrospective' Peace be on display in the UK who later moved to Qatar's capital, Doha, Qatar and the region's large Arab and Islamic Arts Museum of money spent on making.


0 comments:
Post a Comment